بغداد،13مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)حال ہی میں عراق کی ایک عدالت میں بھی ایسا ہی ایک انوکھا کیس دائر کیا گیا۔ یہ کیس ملک کے وزیراعظم حیدر العبادی کے خلاف دائر کیا گیا ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ مدعاعلیہ نے فلسطین میں مسلمانوں کے قبلہ اول [مسجد اقصیٰ] کی ناپاک صہیونیوں کے ہاتھوں روز مرہ کی بنیاد پرہونے والی بے حرمتی کی روک تھام کے لیے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے۔ اس لیے عدالت انہیں ایک ڈالر جرمانہ ادا کرنے کا حکم دے۔عراق کی سپریم جوڈیشل کونسل کے ایک ذریعے نے العربیہ ڈات نیٹ کو اس انوکھے مقدمہ کی تفصیلات بتائیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک عراقی شہری نے اپنی نوعیت کا ایک انوکھا کیس دائر کیا ہے جس میں وزیراعظم کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔
درخواست گذار نے موقف اختیار کیا ہے کہ چونکہ وزیراعظم حیدر العبادی نے دستور کا حلف اٹھاتے ہوئے مقدس مقامات کی بے حرمتی روکنے اور ان کا تحفظ کرنے کا بھی عہد کیا ہے۔ مسجد اقصیٰ کا تحفظ اور قبلہ اول کی غاصب صہیونیوں کے ہاتھوں ہونے والی بے حرمتی کی روک تھام بھی ان کی آئینی، اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری ہے۔ وزیراعظم اپنی اس ذمہ داری کی انجام دہی میں ناکام رہے۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ درخواست گذار نے جہاں مسجد اقصیٰ کے دفاع کی ذمہ داری عراقی وزیراعظم پرعاید کی ہے وہیں جرمانے کے طور پر صرف ایک امریکی ڈالر کا مطالبہ کیا ہے۔عراقی عدالت نے وزیراعظم العبادی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت شروع کردی ہے۔ گذشتہ روز فریقین کے وکلاء نے اپنے اپنے دلائل پیش کیے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ گوکہ مسجد اقصیٰ اپنے مذہبی مقدس مقام کی بناء پر انتہائی اہمیت کا حامل مقام ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ آیا وزیراعظم آئینی اور اخلاقی طور پرمسجد اقصیٰ کے دفاع اور تحفظ کے کس حد تک ذمہ داری ہیں۔